بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تسبیح کو پاؤں پر لگانے کا حکم

سوال

کیا ہم تسبیح کو پاؤں  میں لے سکتے ہیں؟ اگر غلطی سے ہمارے پاؤں میں تسبیح لگ جاۓ تو کیا گناہ ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ تسبیح اللہ کے ذکر کو شمار کرنے کا ایک آلہ ہے  اور  اس کو اللہ کے ذکر سے ایک نسبت ہےلہذا اس کا احترام کرنا چاہیےاور تسبیح کو پاؤں میں نہیں لینا چاہیے، پاؤں میں لینا ادب کے خلاف ہے۔ نیز  غلطی سے پاؤں پر لگنے کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجوز رمي براية القلم الجديد، ولا ترمى براية المستعمل لاحترامه، كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم، كذا في القنية."

(کتاب الکراہیۃ، باب خامس، جلد نمبر: ۵، صفحہ نمبر: ۳۲۴، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101866
تاریخ22-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں