بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کے لیے لوہے کی انگوٹھی کا حکم

سوال

کیا مرد لوہے کی انگوٹھی پہن سکتا ہے اور کیا اس سے نماز ہو جاتی ہے؟

جواب

مَردوں کے لیے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے، اور چاندی کی انگوٹھی میں بھی یہ شرط ہے کہ ایک مثقال  (ساڑھے چار ماشہ یعنی 4 گرام، 374 ملی گرام (4.374 gm)سے کم وزن کی ہو۔  لوہے کی انگوٹھی کو حدیث میں اہلِ جہنم کا زیور کہا گیا ہےالبتہ اگر کسی نے  لوہے کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: فيحرم بغيرها إلخ) لما روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن خاتم الذهب»، وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه: «أن رجلًا جاء إلى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وعليه خاتم من شبه فقال له: مالي أجد منك ريح الأصنام فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا» " فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام، فألحق اليشب بذلك؛ لأنه قد يتخذ منه الأصنام، فأشبه الشبه الذي هو منصوص معلوم بالنص، إتقاني، والشبه -محركًا-: النحاس الأصفر، قاموسَ وفي الجوهرة: والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجل والنساء."

(كتاب الحظر والإباحة، ج6، ص359، سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101863
تاریخ22-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں