بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام ضحی رکھ سکتے ہیں

سوال

میں اپنی بیٹی کا نام رکھنا چاہتا ہوں (ضحی )کیا یہ ٹھیک ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عربی زبان مین دن چڑھنے کے وقت کو "ضحی" سے تعبیر کیا جاتا ہے، اسی طرح سورج کی روشنی، یا بات واضح ہونے کے معنی بھی آتے ہیں۔

بچوں کے نام رکھنے کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ صحابیات رضوان اللہ علیہن یا تابعات رحمہن اللہ کے نام پر نام  رکھا جائے یا کم از کم نیک خواتین اور اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ خواتین کے نام پر نام رکھا جائے۔

"ضحی" نام بھی اگرچہ رکھ سکتے ہیں، تاہم صحابیات رضوان اللہ علیہن  کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کرنا بہتر ہوگا۔

معجم الوسيط میں ہے: 

"الضُّحَى : ضَوُءُ الشمس. الضُّحَى ارتفاع النَّهار وامتداده. الضُّحَى وقت هذا الارتفاع أَو الامتداد. يقال: ما لكلامِهِ ضُحَّى: ما لَهُ بيانٌ". ( المعجم الوسيط : باب الضاد، (1 / 535) ط: دار الدعوة)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101805
تاریخ21-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں