کیا دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ لگانا ضروری ہے؟
سوال
کیا دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاوسیلہ لگانا ضروری ہے؟ ایک ساتھی کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ کے بغیر دعا قبول نہیں ہوتی، کیا یہ درست ہے؟
جواب
اللہ تعالی سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعا مانگنا مستحب ہے، البتہ وسیلے کو ضروری سمجھنا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ وسیلہ کے بغیر اللہ تعالی دعا قبول نہیں کرتا، یہ درست نہیں ہے۔ نیز دعا کے آداب میں سے ہے ابتدا میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اور پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیج کر پھر دعا کی جائے، ایسی دعا کی قبولیت کی زیادہ امید ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وقال السبكي: يحسن التوسل بالنبي إلى ربه، ولم ينكره أحد من السلف و لا الخلف إلا ابن تيمية؛ فابتدع ما لم يقله عالم قبله."
(حاشية ابن عابدين على الدر المختار: كتاب الحظر والإباحة 6/ 397، ط. سعيد)
حجة الله البالغة" میں ہے:
"ومن آداب الدعاء تقديم الثناء على الله والتوسل بنبي الله، ليستجاب الدعاء."
(حجة الله البالغة: أبواب الصلاة، الأمور التي لا بد منها في الصلاة 2/ 10 ط: دار الجيل، بيروت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

