نماز کی ہر رکعت میں سورہ اخلاص پڑھنا
سوال
ساری عمر نماز میں صرف سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص پڑھنا کیسا ہے ؟ اور کیا مسلمان پر مزید سورتوں کا حفظ کرنا لازم ہے ؟
جواب
بغیر کسی عذر کے فرض نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورة اخلاص(قُلْ ھُوَ اللّٰہ احد) پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔ اور اگر اس کے علاوہ کوئی سورت یاد نہ ہو تو یہ سستی اور غفلت کی بات ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ قرآن مجید کی دوسری سورتیں بھی یاد کرکےپڑھیں۔ اور اس مقصد کے لیے کم از کم قرآن مجید کی آخری دس سورتیں حفظ کرلینی چاہییں۔
النہر الفائق میں ہے:
"ولا بأس بأن يقرأ سورة ويعيدها في الثانية كما روي ذلك من فعله عليه الصلاة والسلام كذا في (الشرح)، وجزم في (القنية) بالكراهة، والظاهر أنها تنزيهية، ولفظ لا بأس لا ينافيها، ويحمل فعله عليه الصلاة والسلام على بيان الجواز هذا إذا لم يضطر ".
(النهر الفائق:كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فرع (1/ 237)، ط. دار الكتب العلمية، الطبعة الأولى: 1422هـ = 2002م)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

