بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حورم نام رکھنا

سوال

 کیا بیٹی کا نام "حورم" رکھا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حورم  اصل میں لفظ حور ہے (حاء کے پیش کے ساتھ)،اس کا معنی ہے کہ:

القاموس الوحیدمیں ہے :

سفید رنگت والی عورتیں اور سیاہ چشم عورتیں۔

(باب:ح ،ص:388،ط:دارالاسلامیات)

حورم کا نام کا استعمال عام نہیں ہے لہذا حور نام رکھا جائے یا صحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام پر بچی کا نام رکھا جائے۔

محیط اللغۃ میں ہے:

"حورة بفتحتين أيضًا والحور أيضًا: شدة بياض العين في شدة سوادها، وامرأة حوراء: بينة الحور، يقال: احورت عينه احوراراً، قال الأصمعي: ما أدري ما الحور في العين، وقال أبوعمرو: الحور أن تسود العين كلها مثل أعين الظباء والبقر، وقال: وليس في بني آدم حور، وإنما قيل للنساء: حور العيون تشبيهاً بالظباء والبقر."

(1/69، ط: دارالكتب العلمية)

المعجم الوسیط میں ہے:

"(الحور) النقص والهلاك ويقال إنه في ‌حور وبور في غير صنعة ولا إجادة أو في ضلال والباطل في ‌حور في نقص وتراجع وجمع حوراء۔"

(باب الحاء جلد 1، ص :205ط : دارالدعوۃ)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101676
تاریخ20-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں