بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچہ کی طرح بچی کے کان میں بھی اذان اور اقامت مسنون ہے

سوال

کیا بچی کے کان میں اذان اور اقامت دی جائے گی ؟

جواب

صورت مسئولہ میں بچے کی طرح بچی کے کان میں بھی اذان اور اقامت پڑھنا مسنون ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود."

(كتاب الصلاة، باب الأذان، ج1، ص385، سعيد)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  میں ہے :

"(من ولد له) أي ولد كما في نسخة صحيحة (فأحب أن ينسك) بضم السين أي يذبح (عنه) أي عن المولود أو عن الولد، وهو يطلق على الذكر والأنثى (فالينسك عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة. رواه أبو داود والنسائي) ."

(كتاب الصيد والذبائح، باب العقيقة، ج7، ص2690، دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101549
تاریخ19-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں