بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تشہد میں واجب وسنت کیا ہے؟

سوال

تشہد میں کیا پڑھنا واجب ہے اور کیا پڑھنا غیر واجب ہے؟

جواب

نماز  میں خواہ نفرادی  پڑھی جائے یا  امام  کے  پیچھے، قعدہ اولیٰ اور  قعدہ ثانیہ  یعنی   ہر  قعدہ   میں  التحیات  (تشہد )   پڑھنا  واجب  ہے،  چاہے  فرض نماز  ہو  یا نفلی،  جب  کہ  قعدۂ اخیرہ میں   دورد  شریف   اور دعا پڑھنا  سنت  ہے،  خواہ  فرض  ہو،  سنت ہو  یا  نفل   ہو۔

حلبی کبیر میں ہے:

"و منها: قراءة التشهد فإنها واجبة في القعدتين الأولي و الأخيرة."

(کتاب الصلوۃ،واجبات الصلوۃ،ص:258،ط:مکتبة نعمانیة )

فتاوٰی شامی میں ہے:

"(و لها واجبات) لاتفسد بتركها و تعاد وجوبًا في العمد و السهو إن لم يسجد له (و هي) ... (قوله: و التشهدان) أي تشهد القعدة الأولى و تشهد الأخيرة."

(کتاب الصلوۃ،واجبات الصلوۃ،ج:1،ص:466،ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و صلى على النبي صلى الله عليه وسلم) ... وسنة في الصلاة، و مستحبة في كل أوقات الإمكان، (قوله: وسنة في الصلاة) أي في قعود أخير مطلقاً، وكذا في قعود أول في النوافل غير الرواتب، تأمل."

(کتاب الصلوۃ،باب صفة الصلوۃ،ج:1،ص:512،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101493
تاریخ18-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں