بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید گاہ کے لیے وقف شدہ زمین تبدیل کرنا

سوال

کیا عید گاہ کی زمین بدلی جا سکتی ہے زید نے عید گاہ کے لیے دی تھی ۔کیا اس کے علاوہ اور کہیں بنا سکتے ہیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ اگر کوئی زمین عید گاہ کے  لیے وقف کردی گئی،تو یہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی گئی، وقف مکمل ہونے کے بعد   اس کو فروخت کرنا  یا اس میں کسی قسم کا ردوبدل  کرنا یا کسی اور استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔

الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

"إذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف، وصار حبيساً على حكم ملك الله تعالى، ولم يدخل في ملك الموقوف عليه، بدليل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالك الأول) كسائر أملاكه.

وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه ولا قسمته."

(الباب الخامس الوقف ،الفصل الثالث حکم الوقف جلد 10، ص7617، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101481
تاریخ18-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں