بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجنبیہ عورت کو ہمیشہ کےلیے اپنے اوپر حرام کرنا

سوال

اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جو ابھی اس کے نکاح میں نہیں ہے یہ کہدے کہ تو مجھ پر ہمیشہ کے لئے حرام ہے ،تو کیا وہ اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص نے کسی ایسی عورت سے جو اس کے نکاح میں نہیں تھی اس کو یہ کہا کہ"تو مجھ پر ہمیشہ کےلیے حرام ہے" تو وہ عورت مذکورہ شخص پر ہمیشہ کےلیے حرام نہیں ہوگی لہذا اگر دونوں کے درمیان حرمت کا کوئی اور رشتہ اور تعلق نہ ہو تو مذکورہ شخص اس عورت کے ساتھ شرعاً نکاح کرسکتا ہے۔

اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:

"ولا يصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكاً أو يضيفه إلى ملكٍ وإن قال لأجنبيةٍ " إن دخلت الدار فأنت طالقٌ" ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق."

(كتاب الطلاق،ج:3،ص:46،ط:المکتبۃ العلمیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101405
تاریخ17-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں