بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر داڑھی والے کا اذان دینے کا حکم

سوال

 جس مسلمان کی داڑھی نہ ہو، اس کے لیے اذان دینا کیسا ہے؟

جواب

داڑھی ایک مشت سے کم کرنا یا منڈوانا دونوں ناجائز اور حرام ہیں، ایسے شخص کا اذان دینا بھی مکروہ تحریمی ہے، ہاں اگر  قدرتی طور پر داڑھی ہے ہی نہیں تو پھر کوئی ممانعت نہیں۔

الدر المختار میں ہے:

"(ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانه) على المذهب.

(و) أذان (امرأة) وخنثى (وفاسق) ولو عالما."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:392، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101400
تاریخ17-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں