بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الثانی 1448ھ 10 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کے ساتھ کھانا کھانا

سوال

اگر شیعہ کے ساتھ کام کرتے ہوں اور ایک وقت کا کھانا ساتھ کھانا ہو تو کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر ایک دوسرے کا کھانا کھا لیں تو کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کھانا حلال ہو اور ان کے عقیدے کے مطابق کسی خاص مجلس یا دن کا نہ ہو تو عام احوال میں شیعہ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا فی نفسہ  جائز ہے،  اگر ان کے ساتھ   میل جول اور کھانے  پینے میں شرکت کے نتیجے میں عقیدہ بگڑنے کا اندیشہ  ہو توان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا درست نہیں ہوگا، نیز ان سے زیادہ اختلاط اور میل جول سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"و لا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط."

( کتاب الکراہیۃ، الباب الرابع عشر، 5 / 345 ، ط : دار لفکر )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101367
تاریخ17-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں