بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیاعورت کےلیے عمرہ سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے؟

سوال

کیا عمرہ سے پہلے خواتین کے لیے غسل  کرنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عمرہ کرتے وقت احرام سے پہلے مرد /عورت دونوں کےلیےغسل کرنامسنون عمل ہے، لہذا محض عمرہ کرنےکی وجہ سے احرام سے پہلے عورت پر غسل کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ اگرکرلےتو بہترہے،  ثواب ملےگاورنہ وضوبھی کافی ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا أراد الإحرام اغتسل أو توضأ والغسل أفضل إلا أن هذا الغسل للتنظيف حتى تؤمر به الحائض كذا في الهداية."

(کتاب المناسک،الباب الثالث فی الاحرام،ج:1،ص:222،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101210
تاریخ14-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں