بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض و نفاس میں بیوی سے استمتاع کی حدود

سوال

حیض ونفاس میں بیوی کی شرمگاہ کے علاوہ رانوں کے درمیان بغیر حائل کے شرمگاہ پر موٹا کپڑا رکھ کر اور پستانوں کے درمیان میں انزال کرنا کیسا ہے؟ اور حیض ونفاس میں بیوی سے کس حد تک فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہے؟

جواب

شوہر کے لیے بیوی سے اس کے  ماہواری کے ایام میں  ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصہ سے بغیر حائل کے نفع اٹھانا  شرعاً ممنوع قرار دیاگیا ہے، اس لیے حائل کے بغیر رانوں کے درمیان انزال کرنا منع ہے، البتہ اس حصہ کے علاوہ باقی تمام بدن سے  فائدہ اٹھانے اور شہوت پوری کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

''(و) يمنع... (و قربان ماتحت إزار) يعني ما بين سرة و ركبة ولو بلاشهوة وحل ماعداه مطلقاً''.

(باب الحيض، جلد:1، صفحہ: 292، طبع: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101156
تاریخ13-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں