بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کتاب کا کچھ حصہ پڑھنے کے بعد اس کو پوری قیمت پر فروخت کرنا

سوال

نئی کتاب یا نیا رسالہ جس کا کچھ حصہ پڑھ لیا جائے یا مکمل پڑھ لیا جائے، اس کو پوری قیمت پر بیچنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

فروخت کنندہ کو اختیار ہے کہ جس قیمت پر بیچنا  چاہے بیچ سکتا ہے، لہٰذا اگر خریدار مکمل قیمت پر خریدنے پر راضی ہو  تو مکمل قیمت  پر بیچنا جائز ہے۔

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"الثمن ‌المسمى ‌هو ‌الثمن ‌الذي ‌يسميه ‌ويعينه ‌العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها."

(مجلة الاحكام العدلية، ص:33، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101135
تاریخ13-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں