بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروکاری کی وجہ سے طلاق واقع ہونا

سوال

صوبہ سندھ میں جو کارو کاری کا رواج ہے اس سے عورت کو طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟نیز یہ بھی بتائیں کیا اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صوبہ  سندھ  میں کاروکاری کا جو رواج  ہے  وہ غیر شرعی ہے ،اگر شوہر کاروکاری کی وجہ  سے بیوی کو طلاق دے دے تو  طلاق واقع ہوجائے  گی اور  عدت گزرجانے  کے  بعد عورت  کے لیے دوسری جگہ نکاح کرناجائز ہوگا، البتہ طلاق کے بغیرصرف کاروکاری کی وجہ سےشادی شدہ عورت کےلئے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے،اور اگر لڑکی شادی شدہ نہیں ہے تو وہ فوراًدوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101060
تاریخ12-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں