بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لائبہ نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

لائبہ نام رکھنا شرعاًکیسا ہے ؟

جواب

"لائبہ " یہ عربی زبان کا لفظ ہے ،' لاب' سے مشتق ہے، اس کا معنی ہے :(1)     پیاسا ہونا ( 2 ) پیا سے کا پانی کے ارد گرد گھومنا اور اس تک نہ پہنچ پانا ، لہذا 'لائبہ'  کا معنی ہو ا:  پیاسی لڑکی، یا وہ پیاسی لڑکی  جو پانی کے ارد گرد گھومتی ہو اور پانی تک نہ پہنچ سکے،لہذا بچی کا یہ نام رکھنا اچھا نہیں ہے، اسی طرح اگر اس کا تلفظ "لاعبہ " ہو  تو اس کا معنی  کھیلنے کودنے والی لڑکی، اس معنی کے اعتبار سے بھی یہ نام اچھا نہیں ہے،بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن  یا مسلمان نیک خواتین کے ناموں میں سے  اچھا بامعنی نام رکھیں ۔

"المعجم الوسيط"میں ہے:

" (لاب): الرجل أو البعير لوباً ولواباً ولوباناً: عطش واستدار حول الماء وهو عطشان لا يصل إليه فهو لائب، (ج) لؤوب ولوب ولوائب، يقال: إبل لوب ولوائب، وهي لائبة، والجمع لوائب."

(ج:2،ص:844،رقم:5،ط:دارالدعوۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100771
تاریخ07-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں