بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہے

سوال

ایک عورت نے قسم کھائی کہ میں یہ لباس نہیں پہنوں گی،  جب کہ اس کا شوہر اس کو وہ لباس پہننے پر مجبور کرتا ہے ، اب یہ عورت کیا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ عورت نے قسم کھائی کہ میں یہ  کپڑے نہیں پہنوں گی لیکن  خاتو ن کا شوہر مجبور کررہا ہے، تو اس صورت میں  خاتون    کپڑے پہن لے اوراپنی قسم کا کفارہ  ادا کرے ،اورقسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا  دئے ، یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے  ( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )  یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا دے،اگر نہ کپڑے دے سکتی ہے اور نہ ہی کھانا کھلا سکتی ہے  تو مسلسل تین روزے رکھے ۔

باری تعالی کا  ارشاد ہے:

"فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ."﴿المائدة: ٨٩﴾

تنویر الابصار مع درالمختار میں ہے:

"(ومن حرم) أي على نفسه ... (شيئا) (ثم فعله) بأكل أو نفقة .. (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين".

(کتاب الایمان ، 729/3، سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100740
تاریخ07-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں