امام کا بھولے سے سری نماز میں جہرا کچھ الفاظ پڑھنے کا حکم
سوال
اگر کسی سری نماز میں امام سہواً کچھ الفاظ بلند آواز میں پڑھ لے، تو کیا حکم ہے؟
جواب
اگر کسی سری نماز میں امام بھولے سے ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات کی مقدار جہراًتلاوت کرلے (یعنی جتنی مقدار نماز میں پڑھنا واجب ہے) تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا اور اگر اس سے کم کم پڑھا ہو، تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا، بغیر سجدہ سہو کے نماز درست ہوجائے گی۔
الدر المختار میں ہے:
"(والجهر فيما يخافت فيه) للإمام (وعكسه) لكل مصل في الأصح والأصح تقديره (بقدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين.
وفي الرد تحته:
(قوله والأصح إلخ) وصححه في الهداية والفتح والتبيين والمنية لأن اليسير من الجهر والإخفاء لا يمكن الاحتراز عنه، وعن الكثير يمكن، وما تصح به الصلاة كثير، غير أن ذلك عنده آية واحدة، وعندهما ثلاث آيات هداية."
(كتاب الصلاة، ج:2، ص:81، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

