بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاگل کو قتل کرنے کاحکم

سوال

 ایک شخص کا دماغ توازن صحیح نہیں ۔ اللہ اور رسول کو نہیں مانتا۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اپنی ماں کو قتل کرنے کے درپے ہے اور لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے تو کیا ایسے شخص کو معذور کرنا (یعنی ہاتھ ، پاؤں )کاٹنا یا قتل کرنا صحیح ہے ۔

جواب

صورت مسئولہ میں  مذکورہ شخص کا دماغی توازن صحیح نہیں ہے ، اور لوگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے ، اور اپنی ماں کو قتل کرنے کے درپے ہے ، ایسے شخص کو قتل کرنا ،یا اس کے ہاتھ پاؤں کاٹنا شرعا جائز نہیں ہے ،لہذا مذکورہ شخص کو کسی  ایسے ادارے میں داخل کردیا جائے  جس میں ایسے معذور افراد کو رکھا جاتا ہو تاکہ اس سے گھروالے اور دیگر افراد محفوظ ہو جائیں ۔

شرح معاني الآثار میں ہے :

"عن المغيرة بن شعبة : أن النبي صلی الله عليه وسلم نهي عن المثلة."

(کتاب الجنایات ،باب الرجل یقتل رجلاکیف یقتل ،183/3،عالم الكتب)

بخاری شریف میں ہے ؛

"عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يحل ‌دم ‌امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمارق من الدين التارك للجماعة ."

(کتاب الدیات،2521/6،دارابن کثیر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100589
تاریخ05-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں