بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام بیماری میں تشہد میں اچھی طرح بیٹھنے پرقادر نہیں تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر کوئی شخص التحیات پر مکمل بیٹھنے پر قادر نہیں کہ ایک ٹانگ اٹھی ہوئی ہو اور دوسری نہیں تو اس شخص کے اقتدا میں نماز پڑھنے والوں کا حکم کیا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ امام رکوع وسجدہ پر قادر ہے، صرف بیماری کی وجہ  تشہد میں ایک ٹانگ اٹھا کر بیٹھتے ہیں تو ان کی امامت درست ہے، ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لا (قادر على ركوع وسجود بعاجز عنهما)؛ لبناء القوي على الضعيف.

(قوله: بعاجز عنهما) أي بمن يومئ بهما قائماً أو قاعداً، بخلاف ما لو أمكناه قاعداً فصحيح، كما سيأتي. قال ط: والعبرة للعجز عن السجود، حتى لو عجز عنه وقدر على الركوع أومأ".

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج: 1، صفحہ: 579، ط: ایچ، ایم،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100578
تاریخ05-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں