بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزل نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا میں بیٹی کا نام ایزل فاطمہ رکھ سکتا ہوں؟

جواب

ایزل نام کا معنیٰ ہے: تصویر وغیرہ کو سہارا دینے کے لئے تین ٹانْگوں کا لکڑی کا اسٹینڈ، لکڑی کا ٹیکن۔

(ماخوذ از: اردو لغت، مادّہ:ایزل، ج:2، ص:1117، ط:اردو لغت بورڈ کراچی)

مذکورہ معنی کے اعتبار سے بچی کا نام ایزل نہ رکھا جائے۔

فاطمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی رضی اللہ عنہا کا نام ہے، یہ نام رکھنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ افضل ہے۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية) میں ہے:

"وفي الفتاوى: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.

(کتاب الکراهیة، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد، ج:5، ص:362، ط:مکتبہ رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100501
تاریخ01-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں