بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ظہر اور عصر کی نماز میں مسنون قراءت

سوال

امام کوظہر  اور عصر کی نماز میں کتنی  قراءت کرنی چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ امام اور منفرد کےلیے ظہر کی  نماز کی پہلی دورکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد طوال مفصّل (سورۃالحجرات سے سورۃ البروج تک) سورتوں کا پڑھنا اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اوساط مفصّل (سورۃ  الطارق سے سورۃ البینہ تک) سورتوں کا پڑھنایا ان سورتوں کی آیات کے بقدر تلاوت کرنا مسنون ہے، البتہ سفر اور ضرورت کی حالت میں مثلاً : وقت کی تنگی یا مقتدیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی اور سورت بھی پڑھنا جائز ہے۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"(ويسن في السفر مطلقا) أي حالة قرار أو فرار، كذا أطلق في الجامع الصغير، ورجحه في البحر: ورد ما في الهداية وغيرها من التفصيل، ورده في النهر، وحرر أن ما في الهداية هو المحرر (الفاتحة) وجوبا (وأي سورة شاء) وفي الضرورة بقدر الحال (و) يسن (في الحضر) لإمام ومنفرد، ذكره الحلبي، والناس عنه غافلون (طوال المفصل) من الحجرات إلى آخر البروج (في الفجر والظهر، و) منها إلى آخر - لم يكن - (أوساطه في العصر والعشاء، و) باقية (قصاره في المغرب) أي في كل ركعة سورة مما ذكره الحلبي."

(كتاب الصلاة، فصل في القراءة، 538/1، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100325
تاریخ29-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں