بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادھار خریداری میں قسطوں کی مدت بڑھانا

سوال

اگر بائع مشتری کو ایک چیز 6 مہینوں پر قسطوں پر دے اور ایک مہینے بعد میں وہی چیز نو مہینوں کے قسطوں پر کردے تو شرعی طور پر کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر بائع نے  اپنے سامان کی قیمت متعین کرکے 6 مہینے کی قسطوں پر دی اور ایک مہینہ بعد وہی متعین رقم کی  قسطوں کی مدت 9 مہینہ کردی  تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ،لیکن اگر قسطوں کی  مدت بڑھانے کی وجہ سے رقم  میں  بھی اضافہ کیا گیا تو یہ شرعا ناجائز ہوگا،البتہ اگر بائع اور مشتری باہمی رضامندی سے پہلا معاملہ اقالہ کر کے ختم کردیں پھر دوبارہ نئے سرے سے 9 مہینے کی قسطوں  پر  معاملہ کرلیں اور نئے ثمن / قیمت پر معاملہ کریں تو یہ  جائز ہے ۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ۔والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(کتاب الحدود، ج4، ص61، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100168
تاریخ27-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں