بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حکومت کی طرف سے ملنے والے پیسوں میں بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

سوال

میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا، حکومت کی جانب سے مجھے علاج کے لیے 30 لاکھ روپے ملے ہیں، میرے بھائی اس میں سے حصہ مانگ رہے ہیں کہ یہ وراثت میں تقسیم ہوں گے، کیا یہ رقم بھائیوں میں تقسیم ہوگی یا نہیں؟ اب میرے بھائی یہ دعویٰ کرتے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کو حکومت کی طرف سے علاج کے لیے مذکورہ  30 لاکھ روپے دیے گئے ہیں تو اس کی حیثیت  حکومت کی طرف سے تبرع کی ہے، سائل ان 30 لاکھ روپے کا اکیلا مالک ہے، اس رقم میں  کسی اور کا کوئی حق و حصہ نہیں ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز... وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له."

(كتاب الهبة، ج: 4، ص: 374، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144405100122
تاریخ26-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں