بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کان میں دودھ ڈالنے سے رضاعت کا حکم

سوال

کان میں دودھ ڈالنے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا  نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  کان میں دودھ ڈالنے سےرضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يثبت بالإقطار في الأذن والحقنة والإحليل والدبر والآمة والجائفة وإن وصل إلى الجوف والدماغ وعند محمد - رحمه الله تعالى - يثبت بالحقنة كذا في التهذيب. والأول ظاهر الرواية هكذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الرضاع ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۴۴،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100096
تاریخ26-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں