بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنازہ گاہ کو قبرستان سے ملانے کا حکم

سوال

 کیا جنازہ گاہ ( جہاں پر جنازہ پڑھتے ہیں) کو قبرستان سے ملانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

جنازہ گاہ کو قبرستان سے ملانا جائز ہے ،تاہم اس بات کا خیال رہے کہ جنازہ گاہ کا راستہ ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے قبروں کی بے ادبی کا اندیشہ ہو مثلاً ہجوم کی وجہ سے لوگ قبروں پر پاؤں رکھ لیں۔

البحرالرائق شرح کنزالدقائق میں ہے:

"(قوله ولا يجصص) لحديث جابر نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص ‌القبر وأن يقعد عليه وأن يبنى عليه وأن يكتب عليه» وأن يوطأ وفي المجتبى ويكره أن يطأ ‌القبر أو يجلس أو ينام عليه أو يقضي عليه حاجة من بول أو غائط أو يصلى عليه أو إليه ثم المشي عليه يكره."

(کتاب الجنائز، الصلاۃ علی المیت فی المسجد،ج:2،ص:209،ط:دارلکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100095
تاریخ26-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں