بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی بچی کا نام حمنہ رکھنا

سوال

کیا میں اپنی بچی کا نام حمنہ رکھ سکتاہوں؟

جواب

"حمنہ "  حا  کے  زبر ، اور میم کے سکون کے ساتھ ہے،  "حمنہ"  اچھا نام ہے، امّ المومنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کی بہن،  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی کا نام تھا، لہذا "حمنہ " نام رکھنا درست ہے۔

الإصابة في تمييز الصحابة میں ہے:

"‌حمنة ‌بنت ‌جحش الأسدية: أخت أم المؤمنين زينب وإخوتها ،تقدم نسبها في عبد الله بن جحش، وكانت زوج مصعب بن عمير، فقتل عنها يوم أحد، فتزوجها طلحة بن عبيد الله فولدت له محمدا وعمران. وأمهما وأم أختها زينب أميمة بنت عبد المطلب. قال أبو عمر: كانت من المبايعات، وشهدت أحدا، فكانت تسقي العطشى، وتحمل الجرحى، وتداويهم، وكانت تستحاض، كما أخرجه أبو داود والترمذي."

[حمنة بنت جحش، ج:8، ص:88، ط:دار الكتب العلمية]

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100086
تاریخ26-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں