بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اٹیچ باتھ روم بنانے کا حکم

سوال

کمرے میں اٹیچ باتھ روم بنانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  جب قضاءِ حاجت فرماتے تو دور تشریف لے جاتے تھے،اس لیے فطری حیا کے قریب اور بہتر  طریقہ یہ ہے کہ بیت الخلا رہائشی کمرے سے جدا اور فاصلے پر ہو کہ قضاءِ حاجت سے فراغت کی آواز اور بدبو کمرے میں محسوس نہ ہو، نیز بیت الخلا اور غسل خانہ بھی دونوں جدا جدا ہوں،تاہم جگہ  کی تنگی  یا سیورج کے مسائل کے باعث اٹیچڈ باتھ روم بنایا جائے تو شرعاً اس کی اجازت ہے،بہرحال اگر اٹیچڈ باتھ روم بنانا ہو تو اسے صاف ستھرا رکھا جائے، اور داخل ہوتے اور نکلتے وقت مسنون دعاؤں کا اہتمام کیا جائے تو ان شاء اللہ جنات کے شر سے حفاظت رہے گی۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405100074
تاریخ26-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں