اٹیچ باتھ روم بنانے کا حکم
سوال
کمرے میں اٹیچ باتھ روم بنانے کا کیا حکم ہے ؟
جواب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاءِ حاجت فرماتے تو دور تشریف لے جاتے تھے،اس لیے فطری حیا کے قریب اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیت الخلا رہائشی کمرے سے جدا اور فاصلے پر ہو کہ قضاءِ حاجت سے فراغت کی آواز اور بدبو کمرے میں محسوس نہ ہو، نیز بیت الخلا اور غسل خانہ بھی دونوں جدا جدا ہوں،تاہم جگہ کی تنگی یا سیورج کے مسائل کے باعث اٹیچڈ باتھ روم بنایا جائے تو شرعاً اس کی اجازت ہے،بہرحال اگر اٹیچڈ باتھ روم بنانا ہو تو اسے صاف ستھرا رکھا جائے، اور داخل ہوتے اور نکلتے وقت مسنون دعاؤں کا اہتمام کیا جائے تو ان شاء اللہ جنات کے شر سے حفاظت رہے گی۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

