ایک ہی وقت میں بیوی اور اس کی ماموں زاد بہن کو اپنے نکاح میں رکھنا
سوال
کیا بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئےبيوی کی ماموں زاد بہن سے نکاح ہو سکتا ہے ؟دونوں كو ایک ہی وقت میں نکاح میں جمع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟میرا جس لڑکی سے دوسرا نکاح ہونے جا رہا ہے وہ میری بیوی کی اپنی مامو ں کی بیٹی ہے اور میری بیوی اُس لڑکی کی پھُوپھی زاد بہن ہے یعنی میری ساس کی اپنی بھتیجی ہے ،جس سے میرے دوسرا نکاح ہونے جا رہا ہے ۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے اپنی بیوی کی حیات میں اس کی ماموں زاد بہن سے نکاح کرناجائز ہے۔
المحیط البرہانی میں ہے:
"الجمع بين المرأة وابنة عمها أو ابنة عمتها أو ابنة خالها جائز."
(كتاب النكاح ،الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم ،ج:3،ص:74،ط:دارالكتب العلمية بيروت)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

