بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے کا حکم

سوال

کیا بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ بنوانا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر ضرورت نہ ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ بھی نہ کھلوانا ہی بہتر ہے، لیکن اگر بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کی ضرورت ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اکاؤنٹ میں  اگر بینک کی طرف سے اکاؤنٹ ہولڈر کو رقم رکھنے پر کسی قسم کا نفع نہ دیا جاتا ہو، صرف سالانہ  کٹوتی  ہو اور بیلنس ڈالنے پر کٹوتی نہ  ہوتی ہو تو ایسا اکاؤنٹ کھلوانے  کی گنجائش ہوگی۔ 

درر الحکام میں ہے :

"لأن الثابت بالضرورة ‌يتقدر ‌بقدرها".

(باب الاعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404102143
تاریخ24-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں