بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید کے لغوی معنی کیا ہے؟

سوال

قرآن مجید کے لغوی معنی کیا ہے؟

جواب

 اہلِ لغت نے قرآن کے لفظی (لغوی) معنیٰ میں مختلف اقوال بیان کیے ہیں:

1:  قرآن’’قرأ‘‘ سے مأخوذ ہے جس کے معنی ’’قراءت‘‘ کرنے (تلاوت کرنے) کے  ہیں ؛ چوں کہ  قرآن پاک کی قرأت (تلاوت) کی جاتی ہے؛ اس لیے  اس کو ’’قرآن‘‘ کہتے ہیں۔

2:  قرآن ’’قرن‘‘ سے مأخوذ ہے جس کے معنی  جمع کرنے کے  ہیں؛ چنانچہ قرآن کو ’’قرآن‘‘ اس  لیے کہتے ہیں؛ کیوں کہ اس نے تمام آیات، سورتوں، وعدوں، وعیدوں، قصوں،احکامات اور ممنوعات وغیرہ کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے۔

3:قرآن ’’قرن‘‘ سے ہے بمعنیٰ ملانا اور اس کی آیات ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں؛ اس لیے اس کو قرآن کہتے ہیں۔

4: قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کا نام ہے، یہ کسی  دوسرے لفظ سے مأخوذ  نہیں  ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404102048
تاریخ23-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں