بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عُفَيْرَة نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

عُفَيْرَة نام رکھنا کیسا ہے؟ کیا یہ بھی کسی صحابیہ رضی اللہ تعالی عنھا کا نام ہے؟ اس نام کا معنی کیا ہے؟

جواب

’’عفیرہ‘‘ نام رکھنا درست ہے، بصرہ میں ایک عبادت گزار عورت اس نام سے گزری ہے، اس لئے نیک فال کے طور پر یہ نام رکھنا درست ہے۔ باقی صحابیات کے ناموں میں ہمیں  عفیرہ نام نہیں  ملا۔ عفیرہ عفرۃ سے ہے اور عفرۃ کا معنی ہے: خاکستری رنگ۔ 

الاکمال لابن ماکولا میں ہے:

"أما عُفيرة بالفاء والراء فهي: عفيرة بنت واقد، متعبدة بالبصرة، تروي عن حميدة بنت ثابت البناني، حدث عنها محمد بن عبد الملك الدقيقي".

(الإكمال في رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والكنى والأنساب : باب عفيرة وعقيدة(7/ 22)، ط. دار الكتب العلمية -بيروت، الطبعة: الطبعة الأولى: 1411هـ-1990م)

لسان العرب میں ہے:

"عُفير:  وهو تصغير ترخيم لأعفر من العفرة، وهي الغبرة ولون التراب، كما قالوا في تصغير أسود سويد، وتصغيره غير مرخم: أعيفر كأسيود. وحكى الأزهري عن ابن الأعرابي: يقال للحمار الخفيف فلو ويعفور وهنبر وزهلق. وعفراء وعفيرة وعفارى: من أسماء النساء".

(لسان العرب: فصل العين المهملة (4/ 590)، ط. دار صادر - بيروت، الطبعة  الثالثة : 1414 هـ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101954
تاریخ21-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں