بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ والوں کی طرف سے مفت رقم کا حکم

سوال

میرا ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہے، لیکن اس میں رقم نہیں تھی، اس حال میں کمپنی والوں نے میرے اکاؤنٹ میں ایک سو روپے بھیجے ہیں، کیا اب ان پیسوں کو میں استعمال کرسکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کو ایزی پیسہ کمپنی کی طرف سے بلا کسی عوض سو روپے دیے گئے ہیں، جب کہ سائل کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم نہ تھی، تو ان سو روپیوں کی حیثیت ہبہ (تحفہ) کی ہے اور کمپنی کی طرف سے محض تبرع ہے، سائل کے لیے ان سو روپیوں کا استعمال کرنا جائز ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز... وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له."

(كتاب الهبة، ج: 4، ص: 374، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144404101946
تاریخ21-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں