بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’ارحم‘‘ کے بجائے ’’ارہم‘‘ سے کسی کو پکارنا

سوال

 ہم بچوں کا نام’’ ارحم ‘‘رکھتے ہیں لیکن ہم ان کو ’’ارھم‘‘ نام  لے کر بلاتے ہیں تو یہ کیسا   ہے؟ اور اس سے کیا مطلب بھی تبدیل ہو جاتا ہے کہ نہیں اس کی وضاحت فرمادیں!

جواب

 نام  پکارتے ہوئے ہوئےصحیح تلفظ کے  کوشش کرنی چاہیے، قصدا نام کے تلفظ کو بگاڑ کر بلانا صحیح نہیں ہے ؛  کیوں کہ بسا اوقات مخرج اور الفاظ اتنے بدل جاتے ہیں کہ معنی ہی بدل جاتے ہیں،   تاہم’’ ارحم‘‘ کو ’’ارہم‘‘ کی تلفظ کے ساتھ پکارنے میں حرج نہیں، کیونکہ ’’حا‘‘ اور’’ ھا‘‘ قریب المخرج ہے، اور  اس کی صحیح ادائیگی ہر  شخص کے  لیے مشکل ہے، نیز  ’’ارہم‘‘ کا معنی بھی کوئی برا نہیں، ’’ارہم‘‘ کا معنی ہے:زیادہ سرسبز وشاداب۔

تاج العروس میں ہے:

"وتقول: نزلنا بفلان فكنا في أرهم جانبيه: أي: أخصبهما، نقله الجوهري".

(تاج العروس: مادة ر، ه، م (32/ 297)، ط. دار الهداية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101844
تاریخ21-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں