بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیری فارم میں قرآن کی تلاوت کرنا

سوال

ڈیری فارم میں بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت اونچی آواز سے  دیکھ کر یا زبانی پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟حالانکہ وہاں پر گوبر بھی ہوتا ہے لیکن درمیان میں  چارپائی وغیرہ پربیٹھ کر تلاوت کی جائے تو کیا یہ جائز ہو گا؟

جواب

جس مقام پر گوبر پڑا ہو وہ جگہ نجس ہے اور نجس جگہ پر قرآن کریم کی تلاوت کرنا مکروہ ہے، اس لیے ڈیری فارم میں ایسی جگہ جہاں گوبر پڑا ہواور چارپائی اسی گوبر  پر رکھی ہوئی ہو تو  ایسے مقام کو جب تک صاف نہ کردیا جائے وہاں قرآن کریم کی تلاوت نہ کی جائے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

’’وتكره قراءة القرآن في المغتسل والمخرج ، لأن ذلك موضع الأنجاس .فيجب تنزيه القرآن عن ذلك ، وأما في الحمام فتكره عند أبي حنيفة ‘‘۔

(ج1:،ص:281،ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)

المحیط البرہانی میں ہے :

’’ورأيت في «فوائد الفقيه أبي جعفر»: أن قراءة القرآن في الحمام، أو في المغتسل، أو في موضع ينصب فيه الماء الذي غسل به النجاسة مكروه؛ سواء كان خفية أو جهراً؛ لأن هذا يؤدي إلى الاستخفاف بالقرآن؛ أما إذا قرأ القرآن خارج الحمام في موضع ليس فيه غسالة الناس‘‘۔

(ج:5،ص:138،،ط:داراحیاء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101833
تاریخ21-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں