بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھاس پر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

کیا گھاس پر نماز ادا ہو جاتی ہے؟

جواب

نماز کے صحیح ہونے کے لیے منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نمازی ایسی ٹھوس چیز پر سجدہ کرے جس چیز پر نمازی کی پیشانی ایک مقام پر جا کر رُک جائے، اور مزید دبانے سے نیچے نہ جائے، لہذا اگر گھاس ایسی ہو کہ آدمی سجدے میں جائے تو سر نیچے نہ دھنسے تو پاک گھاس پر نماز جائز ہے، ورنہ نہیں۔ 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"‌ولو ‌سجد ‌على الحشيش أو التبن أو على القطن أو الطنفسة أو الثلج إن استقرت جبهته وأنفه ويجد حجمه يجوز وإن لم تستقر لا۔"

(کتاب الصلاۃ، الباب الرابع، الفصل الاول، جلد:1، صفحہ: 70، طبع: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101830
تاریخ21-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں