بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں بئسَ الاسم الفسوق کو بئسَ لِسم الفسوق پڑھنے سے نماز کا حکم

سوال

سورہ حجرا ت میں  آ یت:11 میں بئس الاسم الفسوق کو اگر نماز میں بئسَ لِسم الفسوق پڑھا جائے، تو نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟

جواب

قرآنِ کریم کی  مذکورہ آیت (بِئسَ الاسم الفسوق) میں  لفظِ اسم کا ہمزہ ہمزہِ وصلی ہے، جس کو درمیانِ کلام میں حذف کرنا ضروری ہے، لہذا نماز میں قرات کے دوران بئس الاسم الفسوق کو پڑھنے میں بئسَ لِسم الفسوق پڑھا جائے گا، لہذا  بئسَ لِسم الفسوق پڑھنے سے نماز ہوجائےگی۔ 

الروضة الندية شرح متن الجزرية" میں ہے:

"أما في حالة وصل (بئس) بـ (الاسم) فليس فيه إلا وجه واحد، وهو إسقاط همزة الوصل، وكسر اللام، يعني كما هو في الحالة الثانية المذكورة آنفًا، فتبين أن اللام مكسورة في جميع الحالات، والألف التي قبلها هي همزة وصل، ولا ينطق بها البتة".

(باب همز الوصل، ذکر بئس الاسم، ص:30، ط:المکتبة الأزهریة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101797
تاریخ20-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں