بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے صحبت کرنے سے عاجز ہونا اور بیوی کو طلاق دینا

سوال

میری عمر 19 سال ہے،میری شادی کو تقریباً 7ماہ ہو چکے ہیں،میں نے اپنی بیوی سے صحبت اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا،یعنی کہ میں صحبت اختیار کرنے سے قاصر ہوں،جس کی وجہ سے میری بیوی مجھ سے ناراض رہی اور مجھے کچھ بھی بتائے بغیر میکے چلی گئی ہے،آج 7 ماہ ہو چکے ہیں میری بیوی نے مجھ سے بات تک نہیں کی حالانکہ کہ میں نے علاج کیلئے ایک ماہ کی مدت مانگی تھی، اب آپ سے پوچھنا یہ تھا کہ کیا صحبت اختیار کرنے سے پہلے طلاق دینا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل  اپنا علاج کرے ،علاج کے بعد اگر ہم بستری پر قادرہو تو صحیح ورنہ اگر بیوی طلا ق کا مطالبہ کر ے تو پھر سائل بیوی کو طلاق دےدے۔

الدر المختار و حاشيۃ ابن عابدين میں ہے : 

"(و لو وجدته عنينًا) هو من لا يصل إلى النساء لمرض أو كبر، أو سحر ... (فإن وطئ) مرة فبها (و إلا بانت بالتفريق) من القاضي إن أبى طلاقها...

(قوله: و إلا بانت بالتفريق) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة، فكانت بائنة و لها كمال المهر و عليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة، بحر."

(کتاب النکاح،ج:3، ص:496-498، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144404101759
تاریخ20-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں