بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیخ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی کتب سے استفادہ

سوال

شیخ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  کی کتب  کےبارے میں کیا حکم ہے؟ اور اُن کی مرویات کا حکم بھی بیان فرمائیں۔

جواب

شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ عہدِ قریب کے ایک نام وَر عرب عالم گزرے ہیں، جنہوں نے علمِ حدیث کے حوالے سے  قابلِ قدر خدمت سرانجام دی ہے، لیکن اُن کا طرز جمہور ِامت کے خلاف ہونے کی بنا پر، یہ دیکھا جائے گا کہ اگر اُن کی بات سلف سے منقول، یا (کم از کم ان سے) متضاد نہ ہو تو  مقبول ہوگی، اور جہاں جمہور ِامت سے ان کی آراء متصادم ہیں، وہ اًن کا تفرد ہے اور اِس سلسلے میں اًن کی بات مقبول نہیں ہے،  جو شخص سلف کے اقوال کی روشنی میں خود سے حدیث کی جانچ نہ کرسکتا ہو اُسے ان کی کتابوں سے احتراز کرناچاہیے، اور جو شخص صحیح و غلط میں فرق کرسکتا ہو ، اُس کے لیے اُن کی آراء سے استفادے میں حرج نہیں ہے، اُن کی آراء میں باہم تضاد بھی پایا جاتا ہے اور تشدد بھی، اِس وجہ سے ہمارے نزدیک ان کی رائے معتبر نہیں ہے، خصوصاً جو آراء جمہور کے خلاف ہو ں، وہ اُن کا شذوذ ہوگا، جو  لائقِ التفات نہیں ہے۔

اُن کے علمی تسامحات اور اپنی ہی  آراء میں تضادات ، اور تشدد و دیگر خامیوں   کے بارے میں مختلف علماءِ کرام نے کتابیں لکھی ہیں، کسی نے مستقل اور کسی نے ضمناً ذکر کیا ہے،  ذیل میں چند کے نام ذکر کیے جارہے ہیں:

1-شذوذُ الألباني وأَخطائُه، للشيخ حبیب الرحمن الأعظمي -رحمه الله-.

2- کلماتٌ في کشف الأباطیل والافتراءات، للشیخ عبدالفتاح أبي غده-رحمه الله-.

3- "الإمام ابنُ ماجه وکتابُه السنن"  کے آخر میں شیخ عبدالفتاح   ابوغدہ رحمہ اللہ کا استدراک۔

4- حوارٌ مع الألباني،تحقیقی  مقالہ جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن۔

5- حکمُ العمل بالحدیث الضعیف، للشیخ محمد عوامة-حفظه الله-.

6- التعریف بمن قسّم السنن إلی صحیح وضعیف، للشيخ شریف حاتم العوني-حفظه الله-.

7- تناقضاتُ الألباني الواضحات، للشیخ سقاف الشافعي.

اِن کے علاوہ بھی وقیع تحریرات منصۂ شہود پر موجود ہیں،  سرِ  دست انہی چند ناموں پر اکتفا کیا جاتاہے۔  

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101751
تاریخ20-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں