جھوٹی طلاق کا اقرار کرنا
سوال
طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سےطلاق قضاءً ہوتی ہے یا دیانۃً؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص جھوٹی طلاق کا اقرار کرلے تو اس کی بیوی پر قضاء طلاق واقع ہوجاتی ہے،دیانۃً نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و لو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً".
( کتاب الطلاق، ج:3، ص:236، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144404101742
تاریخ20-11-2022

