بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹی طلاق کا اقرار کرنا

سوال

طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سےطلاق قضاءً ہوتی ہے یا دیانۃً؟

جواب

واضح رہے کہ اگر   کوئی شخص  جھوٹی طلاق کا اقرار کرلے تو اس کی بیوی پر  قضاء طلاق واقع ہوجاتی ہے،دیانۃً نہیں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"و لو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً".

( کتاب الطلاق، ج:3، ص:236، ط: سعید) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101742
تاریخ20-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں