بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خاص جگہ پر تدفین کی وصیت کرنا

سوال

اگر کوئی وصیت کریں کہ مجھے مرنے کے بعد فلاں جگہ دفنادو اور اس کو کوئی اور جگہ دفنا دیا جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں خاص جگہ تدفین کی وصیت شریعت میں معتبر نہیں،بلکہ باطل ہے لہذا مرحوم کے ورثاء نے میت کو وصیت کے برعکس دوسری جگہ دفن کردیا تو گناہ گار نہیں ہونگے، اس لئے کہ میت کی تدفین ورثاء کا حق ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أوصى بأن يصلي عليه فلان أو يحمل بعد موته إلى بلد آخر . أو يكفن في ثوب كذا أو ‌يطين ‌قبره أو يضرب على قبره قبة أو لمن يقرأ عند قبره شيئا معينا فهي باطلة."

(‌‌كتاب الوصايا، فرع: 6/ 666، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101714
تاریخ19-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں