بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میکڈونلڈ کے کھانے کا حکم

سوال

میکڈونلڈ کا کھانا حلال ہے یا حرام؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں میکڈونلڈ کے کھانے کے حلال یا حرام ہونے کا مدار اس کے ذبیح اور کھانے کی تیاری میں شامل تمام اجزاء کے حلال یا حرام ہونے پر ہے، پس اگر مذکورہ  کمپنی والے مغربی ممالک سے  درآمد شدہ  ایسی مرغی استعمال کرتی ہو جو شرعی اصولوں کے مطابق ذبح نہ کی گئی ہو یا  ریسیپی میں شامل مصالحہ جات میں شامل اجزاء خصوصاً چیز (پنیر) حلال نہ ہو بلکہ اس میں کوئی حرام جزء شامل ہو تو اس کمپنی کی اشیاء کھانا حلال نہ ہوگا، بصورتِ  دیگر حلال ہوگا،  لہذا مکمل تحقیق کے بغیر نہ کھایا جائے۔ تسلی بخش تحقیق میسر نہ ہو تو اجتناب کرنا بہتر ہوگا۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ." ﴿الأنعام: ١٤٥﴾

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101557
تاریخ17-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں