ویران مسجد کی چھت ڈالی جائے یا نہیں؟
سوال
ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جوکہ ستر، اسی سال سے ویران تھی، اب ہم نے اس مسجد کی دیواریں کھڑی کردی ہیں لیکن چھت ڈالنے سے بعض لوگ منع کررہے ہیں کہ یہاں جماعت اور اذان تو نہیں ہوتی، کیوں کہ وہاں صرف ایک گھر ہے، البتہ وہاں انفرادی نماز ہر کوئی پڑھ سکتا ہے، تو کیا اس مسجد کی چھت ڈالنی چاہیے یا نہیں؟
جواب
مذکورہ مسجد کی چھت ڈالنا یا نہ ڈالنا انتظامی معاملہ ہے، بہتر یہی ہے کہ اس کی چھت ڈالی جائے تاکہ گرمی کے موسم میں نماز پڑھنے والے گرم دھوپ سے اور سردی میں ٹھنڈی ہواؤں سے محفوظ رہیں اور بارش میں بھی نماز پڑھنا ممکن ہو، اور تاکہ مسجد گرد و غبار اور اڑنے والے پرندوں کی بیٹ سے بھی کسی حد تک محفوظ رہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

