بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ویران مسجد کی چھت ڈالی جائے یا نہیں؟

سوال

ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جوکہ ستر، اسی سال سے ویران تھی، اب ہم نے اس مسجد کی دیواریں کھڑی کردی ہیں لیکن چھت ڈالنے سے بعض لوگ منع کررہے ہیں کہ یہاں جماعت اور اذان تو  نہیں ہوتی، کیوں کہ وہاں صرف ایک گھر ہے، البتہ وہاں انفرادی نماز ہر کوئی پڑھ سکتا ہے، تو کیا اس مسجد کی چھت ڈالنی چاہیے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ مسجد کی چھت ڈالنا یا نہ ڈالنا انتظامی معاملہ ہے، بہتر یہی ہے کہ اس کی چھت ڈالی جائے تاکہ گرمی کے موسم میں نماز پڑھنے والے گرم دھوپ سے اور سردی میں ٹھنڈی ہواؤں سے   محفوظ رہیں اور بارش میں بھی نماز پڑھنا ممکن ہو، اور تاکہ مسجد گرد و غبار اور اڑنے والے پرندوں کی بیٹ سے بھی کسی حد تک محفوظ رہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101366
تاریخ15-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں