بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا والدین کی قبر کو چومنا جائز ہے؟

سوال

والدین کے قبر کو چومنا جائز ہے ؟ فتاوٰی ہندیہ کے عبارت سے تو جائز معلوم ہوتا ہے، اس عبارت کی کیا تاویل کی جائےگی:

ولا يمسح القبر ولا يقبله فإن ذلك من عادة النصارى ولا بأس بتقبيل قبر والديه كذا في الغرائب.

جواب

صورتِ مسئولہ میں والدین کی قبر کو  چومنا بھی راجح قول کے مطابق جائز نہیں ہے ، ہندیہ کی مذكوره عبارت پر فتوی نہیں ہے ۔

حاشيه طحطاوی علی مراقی میں ہے  :

"ولا ‌يمس ‌القبر ولا يقبله فإنه من عادة أهل الكتاب ولم يعهد الاستلام إلا للحجر الأسود والركن اليماني خاصة وتمامه في الحلبي".

(فصل في زيارة القبور،620، ط: دار الكتب العلمية )

كفایت المفتی میں ہے :

"تقبیلِ قبر والدین بقول راجح ناجائز ہے ".

(کتاب الحظر والاباحۃ،246/12،ادارۃ الفاروق )

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101325
تاریخ14-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں