بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میسرہ نام کا معنی اور حکم

سوال

کیا میسرہ نام رکھ سکتے ہیں ؟ کیا یہ کسی صحابی کا نام ہے ؟ اس کا مطلب کیا ہے ؟

جواب

"میسرہ " کا معنی ہے سہولت ،آسانی کے معنی میں ہے ،نیز یہ کئی صحابہ کرام  کا نام ہے اور یہ نام رکھنا شرعاً درست ہے ۔

الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ  میں ہے :

"ميسرة بن مسروق العبسيّ : من بني هدم بن عوذ بن قطيعة بن عبس العبسيّ.

أحد الوفد من عبس الذين مضت أسماؤهم في ترجمة الربيع بن زياد، وشهد ميسرة حجة الوداع، وقال للنّبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم: الحمد للَّه الّذي استنقذني به من النّار.

وأخرج الواقدي في كتاب «الردة» ، من طريق أسلم مولى عمر، قال: حدّثني ميسرة بن مسروق، قال: قدمت بصدقة قومي طائعين، وما جاءنا أحد حتى دخلت بها على أبي بكر، فجزاني وقومي خيرا، وعقد لنا، وأوصى بنا خالد بن الوليد، فكان إذا زحف الزحوف أخذ اللّواء، فقاتل به، وشهدنا معه اليمامة، وفتح الشام۔۔۔۔۔۔

ميسرة : يقال هو اسم أبي طيبة الحجام. وسيأتي في الكنى".

(ج:6،ص:188،دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101119
تاریخ12-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں