بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے بیوی اور والدہ کو بغیر محرم کے عمرے کا سفر کروانا

سوال

میں سعودی عرب میں کام کرتا ہوں اور مجھے چھٹی نہیں مل رہی، کیا میں اپنی بیوی اور ماں کو بغیر محرم کے فلائٹ میں بلوا سکتا ہوں؟ میں ان کو ایئر پورٹ پر لینے جاوں گا اور عمرہ کروانے کے بعد ایک ماہ بعد واپس بھیج دوں گا۔

جواب

صورت مسئولہ میں عمرہ کروانے کے لیے اپنی بیوی اور والدہ کو بغیر محرم کے شرعی سفر کروانا جائز نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے :

"ثم المحرم أو الزوج إنما يشترط إذا كان بين المرأة، وبين مكة ثلاثة أيام فصاعدا، فإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم؛ لأن المحرم يشترط للسفر، وما دون ثلاثة أيام ليس بسفر فلا يشترط فيه المحرم كما لا يشترط للخروج من محلة إلى محلة."

(كتاب الحج، فصل شرائط فرضية الحج، ج2، ص124، دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101082
تاریخ10-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں