بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا غیرمحرم مرد کے کپڑے دھونےکا حکم

سوال

عورت غیرمحرم مرد کے کپڑے دھوسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرکسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو توعورت کےلیے  نامحرم مردکے کپڑے دھونا فی نفسہ جائز ہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن همام بن الحارث، قال: ‌ضاف ‌عائشة ضيف، فأمرت له بملحفة صفراء، فنام فيها، فاحتلم، فاستحيا أن يرسل بها وبها أثر الاحتلام، فغمسها في الماء، ثم أرسل بها، فقالت عائشة: «لم أفسد علينا ثوبنا؟ إنما كان يكفيه أن يفركه بأصابعه، وربما فركته من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصابعي»، هذا حديث حسن صحيح ."

(‌‌أبواب الطهارة،باب في المني يصيب الثوب ج : 1 ص : 199 ط : شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101048
تاریخ10-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں