بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موزے پہن کر بیت الخلاء جانا

سوال

 موزوں پر مسح کرنے کے بعد رفع حاجت کے لیے جب باتھ روم میں انسان جائے گا تو کیا موزے ناپاک ہوں گے یا نہیں؟ اگر موزے ناپاک ہوں گے تو پھر ان ناپاک موزوں کو پہن کر انسان مسجد میں کیسے داخل ہو سکتا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  موزے پہن کر اگر  بیت الخلاء میں جانے سے  موزوں پر نجاست لگ جائے تو موزے  ناپاک ہوجائیں گے،پھر ان کا مسجد میں پہن کرجانا درست نہیں ہوگا،اور اگر ان پر کوئی نجاست  نہ لگے تو صرف رفع حاجت کے لیے بیت الخلاء جانے سے موزے ناپاک نہیں ہوں گے۔

المبسوط للسرخسي (1/ 82):

"قال (وإن أصابت النجاسة ‌الخف، أو النعل فما دام رطبا لا يطهر إلا بالغسل)."

آپ کے مسائل اور ان کے حل میں ہے:

"سوال:ہم جوتے لے کر بیت الخلاء میں جاتے ہیں ،وہی جوتے لے کر ہم مسجد میں آجاتے ہیں،اکثر بھائی جوتے مسجد کے فرش پر رکھتے ہیں،کیوں کہ بعض جگہ جوتے رکھنے کے لیے لکڑی کا بکس نہیں ہوتا،کیا ایسی صورت میں مسجد ناپاک نہیں  ہوتی،اگر جوتے نمازی اپنے قریب نہ رکھے تو چوری ہونے کااندیشہ ہے۔

جواب:جوتے خشک ہوں تو مسجد ناپاک نہیں ہوتی۔"

(مسجد کے مسائل، ج:3، ص:250، ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404101031
تاریخ10-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں