بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوم پر نماز کا حکم

سوال

فوم پر نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فوم اگر ایسا  ہو کہ اس پر نماز پڑھتے ہوئےسجدہ کرنے کی صورت میں  پیشانی  زمین پر ٹک جائےاور زمین کی سختی محسوس ہو خواہ تھوڑا دباؤ کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو تو ایسے فوم پر نماز پڑھنا جائز ہے ،البتہ اگر فوم اتنا موٹا ہو کہ سجدہ کرنے کی صورت میں دھنستا ہی چلا جائے اور ایک جگہ ٹکے نہیں تو اس صورت میں فوم پر نماز پڑھنا جائز نہیں ۔

البحرالرائق میں ہے :

"والأصل كما أنه يجوز السجود على الأرض يجوز على ما هو بمعنى الأرض مما تجد جبهته حجمه وتستقر عليه وتفسير وجدان الحجم أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك فيصح السجود على الطنفسة والحصيرة والحنطة والشعير والسرير والعجلة إن كانت على الأرض؛ لأنه يجد حجم الأرض، بخلاف ما إذا كانت على ظهر الحيوان؛ ‌لأن ‌قرارها ‌حينئذ ‌على ‌الحيوان ‌كالبساط ‌المشدود ‌بين ‌الأشجار".

(کتاب الصلاۃ،آداب الصلاۃ،ج:1،ص:337،دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144404100956
تاریخ09-11-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں